*جب یقین تردد کا شکار ہو کر پھر یقین میں بدلتا ہے تب قیامت ہوتی ہے*
وہ یقین جس کی تمہید ہفتوں سے دل میں چراغ بن کر جلتی ہے، جسے ہم نے دعا سمجھا، سہارا جانا، اور زندگی کی بنیاد بنا لیا جب اچانک لرزنے لگے، سوال بن جائے، اور پھر حقیقت کے پتھر سے ٹکرا کر ٹوٹ جائے تو انسان کے اندر ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے نہ آسمان پھٹتا ہے، نہ زمین ہلتی ہے، مگر دل کے اندر سب کچھ بکھر جاتا ہے،یہ وہ قیامت ہے جو ان لوگوں کی وجہ سے آتی ہے جو زبان سے مخلصی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عمل سے کسی کی زندگی کو تجربہ گاہ بنا لیتے ہیں جو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر حقیقت میں وہ ساتھ نہیں، تماشا کر رہے ہوتے ہیں، وہ وفا کے لفظ کو مہرہ بناتے ہیں، اعتماد کو ہتھیار بناتے ہیں، اور سامنے والے کی سادگی کو کمزوری سمجھ کر اس سے کھیلتے ہیں۔
ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت چالاک ہیں، کہ ان کے دوہرے چہرے کسی کو نظر نہیں آتے،مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یقین کے ٹوٹنے کی آواز خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں، یہ وہ زخم ہے جو خون نہیں بہاتا، مگر پوری شخصیت کو لہو لہان کر دیتا ہے، یہ وہ دھوکا ہے جو چیخ کر نہیں آتا، بلکہ مسکراتے ہوئے دل میں اترتا ہے اور پھر سب کچھ اجاڑ دیتا ہے،
اور جس دن انسان کو یہ حقیقت سمجھ آ جائے کہ جنہیں وہ اپنا سمجھ رہا تھا، وہ دراصل اس کی زندگی کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ دن اس کے لیے قیامت کا دن ہوتا ہے اس دن اعتماد دفن ہوتا ہے، سادگی مر جاتی ہے، اور انسان اندر سے بدل جاتا ہے، وہ پہلے جیسا کبھی نہیں رہتا، نہ وہ جلد یقین کرتا ہے، نہ بے خوف محبت کرتا ہے، نہ ہر مسکراہٹ کو سچ سمجھتا ہے،اور ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں:
حقیقت چھپ نہیں سکتی کبھی جھوٹے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے۔
یقین جب تردّد کی دھند سے نکل کر حقیقت کے تیز اور بے رحم آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیتا ہے تو یہ صرف ایک ذہنی تبدیلی نہیں رہتی، یہ پورے وجود پر گزرنے والی قیامت بن جاتی ہے،یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ جس سچ پر اس نے اپنی سوچ، اپنے فیصلے اور اپنی زندگی کی سمت کھڑی کی تھی، وہ سچ نہیں تھا بلکہ ایک خوبصورت فریب تھا،جس نے اسکی آنکھوں کی چمک اور اسکے اعتماد کی سمت کو بوجھل کر دیا تھا۔
یہ قیامت اور بھی زیادہ ہولناک ہو جاتی ہے جب یہ فریب کسی عام شخص سے نہیں بلکہ کسی تعلیم یافتہ انسان سے صادر ہو،کیونکہ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں، بلکہ شعور، ذمہ داری اور اخلاقی وزن کا نام ہے، جب یہی تعلیم یافتہ شخص مخلصی کا لبادہ اوڑھ کر کسی سادہ دل انسان کی زندگی میں داخل ہوتا ہے، تو وہ صرف ایک فرد کو نہیں توڑتا، بلکہ علم کی ساکھ پر بھی انگلی اٹھا دیتا ہے،پھر لوگ یہ نہیں کہتے کہ فلاں شخص بےوفا نکلا بلکہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں،یوں ایک فرد کی بددیانتی پورے علم کو بدنام کر دیتی ہے،ایسے لوگ مخلص انسان کی مخلصی کو امانت نہیں سمجھتے، بلکہ اسے کمزوری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا سچ بولتا ہے، اس لیے وہ جھوٹ آزما سکتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا اعتماد کرتا ہے، اس لیے وہ کھیل کھیل سکتے ہیں،وہ جانتے ہیں کہ سامنے والا دل سے جڑا ہوا ہے، اس لیے وہ بے خوف ہو کر اس کی زندگی کے فیصلوں میں مداخلت کر سکتے ہیں یہ لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے، کھلواڑ کرتے ہیں۔
کسی کے جذبات کے ساتھ، کسی کے مستقبل کے ساتھ، کسی کے یقین کے ساتھ،اور سب سے خطرناک بات یہ کہ یہ سب کچھ بڑے مہذب لہجے، مدلل گفتگو اور خوبصورت الفاظ میں کرتے ہیں، تاکہ سامنے والا دیر تک یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،جب آخرکار حقیقت کھلتی ہے تو انسان صرف ایک شخص سے بدظن نہیں ہوتا، وہ خود سے بھی سوال کرنے لگتا ہے،کیا میری سمجھ غلط تھی؟ کیا میرا بھروسہ ہی جرم تھا؟ کیا سچ بولنا نادانی تھی؟یہ سوالات انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں، اس کے اعتماد کو ملبے میں بدل دیتے ہیں، اور اس کے دل میں ایسی خاموشی بھر دیتے ہیں جو برسوں بولنے نہیں دیتی۔
یاد رکھنا کہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ روشنی نہیں رہتا، بلکہ زیادہ خطرناک اندھیرا بن جاتا ہے،ان پڑھ کا دھوکا وقتی ہوتا ہے، مگر تعلیم یافتہ کا فریب انسان کو اپنے اصولوں، اپنے ایمان اور اپنی سچائی تک سے بدگمان کر دیتا ہے، اور بسے اوقات وہ اسکے علم کا بھی انکار کرنے لگتا ہے،یہ تحریر اس مخلص انسان کے حق میں گواہی ہے جو سچا تھا، اور ان لوگوں کے خلاف فردِ جرم ہے جو سچ کا لباس پہن کر دوسروں کی زندگیاں آزماگاہ بنا لیتے ہیں۔
اگر تم تعلیم یافتہ ہو تو یاد رکھو تمہارے الفاظ، تمہارا رویہ اور تمہاری نیت صرف تمہاری نمائندگی نہیں کرتے، وہ علم کی نمائندگی کرتے ہیں،
*اور جو شخص کسی مخلص انسان کی زندگی کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ صرف ایک دل نہیں توڑتا، وہ علم، اعتماد اور انسانیت تینوں کو مجروح کرتا ہے* کیونکہ یقین ٹوٹنے کے بعد صرف آنکھیں نہیں کھلتیں،انسان بدل جاتا ہے۔
یہ تحریر ان لوگوں کے لیے نہیں جو دھوکا کھا گئے، بلکہ ان کے لیے ہے جو دھوکا دیتے ہیں، یاد رکھو کسی کے یقین سے کھیلنا معمولی گناہ نہیں،تم کسی کے وقت، احساسات اور پوری زندگی کے رخ کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہو، ہو سکتا ہے وہ خاموشی سے سب سہہ لے، مگر تمہارے اس عمل نے اس کے اندر ایک قیامت برپا کر دی ہوتی ہے اور قیامتیں ہمیشہ حساب مانگا کرتی ہیں،اس لیے اگر ساتھ ہو تو سچ میں ہو، اور اگر مخلص نہیں ہو سکتے تو کم از کم کسی کے یقین کو آزمائش نہ بناؤ کیونکہ ٹوٹا ہوا یقین دوبارہ جُڑ تو جاتا ہے، مگر وہ پہلے جیسا پاکیزہ کبھی نہیں رہتا۔
دو رنگی چھوڑ کر صرف ایک رنگی ہو جا
سراسر مـوم ہـو جا یا سـراسر سنـگ ہوجا۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*