مجلس مذاکرۂ علمیہ کا اختتامی اجلاس 🕯️📚

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

 گزشتہ شب بعد نماز مغرب متصلاً ہماری محبوب دینی دانش گاہ حضرت نانوتوی کی آرزؤں کا نتیجہ ،محدث امروہوی کی نشأۃ ثانیہ ،حضرت فریدی کی کوششوں کا تراشہ ،حضرت اعجاز کی کاوشوں کا ثمرہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ میں شعبۂ مناظرہ بنام مجلس مذاکرۂ علمیہ کا اختتامی اجلاس بعنوان : رکعات تراویح بیس یا آٹھ منعقد ہوا -
اس تقریب سعید کے مہمان خصوصی علوم انوری کے امین ،فخر المحدثین ،شارح ترمذی (العرف الذکی) گرامی قدر حضرت اقدس مولانا مفتی عبداللہ صاحب معروفی دامت برکاتہم استاذ ونگراں شعبۂ تخصص فی الحدیث دارالعلوم دیوبند تھے-
اجلاس کے صدر وسرپرست شعبۂ مناظرہ کے نگراں و دیگر تمام مؤقر اساتذہ کرام مہمان محترم کے ساتھ پروگرام میں جلوه افروز ہوۓ-
احباب بزم نے بروقت پروگرام کو پورے آب وتاب ،جوش وجذبہ کے ساتھ شروع کیا تو
احباب مدرسہ جوق در جوق برق رفتاری کے ساتھ شریک اجلاس ہوۓ -
ناظم اجلاس رفیق درس مولوی توصیف ارریاوی نے اپنے مخصوص انداز میں اجلاس کی کاروائی کو شروع کیا -
مختصرا تمہید کے بعد تلاوت کلام اللہ کےلیے مدرسہ ہذا کے استاذ تجوید قرأت قاری احسان اللہ صاحب دامت کو مدعو کیا ،
ماشاءاللہ! حضرت نے بڑے خوش الحانی وحسن صوت کے ساتھ ترتیلا ورتل القرآن ترتیلا کی رعایت کرتے ہوۓ حاضرین اجلاس کو لالہ زار کرتے رہے ، محفل تحسین وتحمید سبحان اللہ ،الحمدللہ ،اللہ اکبر اور حیاک اللہ جیسے کلمات سے گونج رہی تھی 
بعد ازاں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گلدستۂ عقیدت و محبت ،شان مصطفائی میں مدح سرائی کےلیے رفیق درس مولوی عاصم ارریاوی کو مدعو کیا،موصوف نے اپنے مسحور کن آواز میں سامعین وناظرین کے دلوں میں محبت رسول کے آبگینہ کو اتار دیا -
ماشاءاللہ!نعت کے الفاظ واشعار اوراس کے طرز ادا دونوں لاجواب رہا ،
اس کے بعد ناظم صاحب نےاجلاس کے مقاصد کی طرف رواں دواں ہوۓ -
وضاحت مبحث کےلیے رفیق مکرم مولوی منت اللہ ارریاوی کو مدعو کیا 
موصوف نے بہت ہی احسن طریقے سے مبحث کے لوازمات وناحیات(بکسر الحا) کو پیش کیا پھر فریقین کے درمیان دعوی ودلیل اور الزامات کا سلسلہ شروع کیا ،دونوں فریقین اپنے موقف کو نہایت ہی مستحکم انداز میں پیش کیا ،اپنی کو بات پوری شد و مد کے ساتھ رکھااور ایک دوسرے کے ذاتیات پر بھی حملہ کیا جو کہ مناظرہ میں ہوتا ہے تاکہ فریقین میں کسی کو غصہ آۓ اوروہ ہزیمت خوردہ سمجھاۓ،
 یہ گفتگو ایک گھنٹہ سے زائد تک چلی،
 اخیر میں فریق مخالف (غیر مقلد ) نے شکست تسلیم کرلی 

پھرمولوی منت اللہ نے رپورٹ شعبۂ مناظرہ پیش کیا جس میں مناظرہ کی تاریخ کو آیات وآثار سے مدلل کرکے پیش کیااور اس مدرسہ میں مناظرہ کے آغاز پھر اس کے موقوف ہونے،دوربارہ نشأۃ ثانیہ کے بعد اس شعبہ کے تحت انجام پانے والے امور کو بیان کیا پھر مسابقۂ صحافت کے مساہمیں میں اول ،دوم سوم پوزیشن حاصل کرنے والے کو خصوصی و دیگر مساہمین کو عمومی انعام سے نوازا -
اس مسابقہ میں دوم پوزیشن حاصل کرنے والے رفیق محترم مولوی منت اللہ ارریاوی نے حاصل کی جو کہ اس کی جفاکشی وعرق ریزی اور کئی شب گزاری کا ثمرہ تھا -
اس کے بعد اجلاس کی آخری کڑی مہمان محترم کا خطاب تھا اس کی طرف بڑھے ،
استاذ محترم حضرت مولاناو مفتی مشاہد الاسلام صاحب نے 
ادارہ ہذا ،مناظرہ اور مہمان محترم کامختصرا بلیغ انذار میں تعارف کراتے ہوۓ مدعو کیا -
مہمان محترم کا خطاب مستطاب:
مہمان محترم نے نہایت سادہ وسہل انداز میں اولا مناظرہ پیش کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی فرمائی، پھر کچھ خامیوں پر توجہ دلائی ،
عنوان کے مناسبت سے واضح و مدلل اوردلنشیں انداز میں رکعات تراویح کے تمام گوشوں پر تسلی بخش گفتگو فرمائی -
اس کے بعد حضرت کے مستجاب دعاؤں کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا