🪶تاریخ آزادی ایک حساس مسئلہ⚖️

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

سو بار سنوارا ہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو
 یہ اہل جنوں بتلائیں گے کیا ہم نے دیا ہے عالم کو

یہ بات بلا مبالغہ کہی جاسکتی ہےکہ مسلمانوں کو محب وطن اور وفادار وطن ثابت کرنے کی قطعا ضرورت نہیں ہے -
یہاں کے دارو رسن مخلتف میدانوں کی سرخ زمیں اس کی بین دلیل ہے
تاریخ سے ناآشنا لوگ ہی مسلمانوں کو بدنام کرنے غدار وطن ثابت کرنے کی سعی مذموم کررہے ہیں 

کیا وجہ ہے آزادی کی تاریخ صرف 1857سے 1947تک محدود ہوکر رہ گئی ہے بیشتر لوگ صرف اسی کو آزادی کی مکمل تاریخ سمجھتے ہیں پڑھے لکھےلوگ بھی اسی دھوکہ کا شکار ہیں اس سے پہلے کے دو سو سالہ تاریخ کا تذکرہ نہیں ہوتا
صرف اس وجہ سے کہ اس سے پہلے کے تاریخ میں صرف مسلمان وعلماء کرام شامل ہیں ،متشدد تعصب پرست مؤرخین خیانت سے کام لیا اور تاریخ کے اوراق کو لق و دق صحرا میں گم کرنے کی کوشش کی ہے
یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت اندرون خانہ مسلمانوں کی تاریخ مسخ اور مٹانے کی سازش ہورہی ہے اگر ہم بھی اس سے روشناس نہیں ہوں گے تو بتاؤ ! اپنے اسلاف کے جدو جہد کوکون یاد رکھے گا 
اس کا تذکرہ کون کرے گا متشدد قسم کے ناہنجار لوگ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا
اس لیے اس موقع پہ گاندھی سبھاش چندر بوس ،بھگت سنگھ کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ 
شیخ احمد سرہندی سے لےکرمولانا حسین مدنی تک کی تاریخ کا تذکرہ کیا جانا چاہیے ورنہ یہ تاریخ کے ساتھ بد ترین خیانت ہوگی 
بڑے افسوس کی بات ہے کہ اسکول و کالج کےطلبہ وطالبات کو بھی کچھ ہی مشہور مجاہدین آزادی کے نام یاد ہیں 
کم از کم مسلم کالج اور تنظیم کو اپنے ادارے میں اس بات پہ غور فکر کرنا چاہیے اور اپنے نسل نو کو آزاد ہندوستان کی صحیح تاریخ سے روشناس کرانے کی ذمہ داری لینی چاہیے