*ختمِ نبوت زندہ باد*🌼🤍
*اسی سال کا بوڑھا*
تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء میں دہلی دروازے لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس نکلتے رہے، لوگ دیوانہ وار آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہوگئے تو اسّی سال کا بوڑھا اپنے معصوم سات سالہ پوتے کو کندھے پر اُٹھا کرلایا، دادا نے ختمِ نبوت کا نعرہ لگایا، معصوم بچے نے جو دادا سے سبق پڑھا تھا، اسی کے مطابق زندہ باد کہا، دو گولیاں آئیں، اسّی سال کے بوڑھے اور سات سالہ بچے کے سینہ سے شائیں کرکے گزر گئیں، دونوں شہید ہوگئے، مگر تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرگئے کہ اگر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمانوں کے اسّی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر سات سالہ بچے تک سب اپنی جان دے کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں۔